اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکی اخبارنویس و تجزیہ نگار تھامس فریڈمین [Thomas L. Freidman] نے نیویارک ٹائمز میں چھپنے والی اپنی یادداشت بعنوان کہ اگر صرف لاس ویگاس میں گولی چلانے والا شخص سٹیفن پیڈاک مسلمان ہوتا اور اگر وہ گولی چلانے سے پہلے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتا ۔۔۔
ایک 26 سالہ امریکی ـ عیسائی شہری سٹیفن پیڈاک نے گذشتہ روز ہفتہ [30 ستمبر2017] امریکی شہر لاس ویگاس کے ایک ہوٹل کی بتیسویں منزل میں ہونے والی میوزک کنسرٹ میں حاضرین پر گولی چلا کر 58 افراد کو قتل اور 500 کو زخمی کیا۔
فریڈمین نے اپنی یادداشت "If Only Stephen Paddock Were a Muslim" میں لکھا ہے:
اگر سٹیفن پیڈاک اگر مسلمان ہوتا ۔۔۔ اگر وہ گولی چلانے سے قبل اللہ اکبر کا نعرہ لگاتا۔۔۔ اگر وہ داعش کا رکن ہوتا۔۔۔ اگر اس کی تصویر ذرائع ابلاغ پر نشر ہوتی جس میں اس کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں بندوق دکھائی دیتی۔۔۔ اگر یہ سب کچھ ہوتا کوئی بھی ہم سے یہ نہ کہتا کہ "حفظ ما تقدم کے لئے اقدامات پر زور دے کر نشانہ بنانے والوں کی بے حرمتی نہ کرو، اور پیڈاک کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کو سیاسی نہ بنائیں"۔
نہیں، ہمیں [ہمارے حکام کو] اس وقت معلوم ہوتا کہ ہمیں کرنا چاہئے۔ ہم فوری طور پر 11/9 کے بعد ہونے والے سب سے بڑے دہشت گردانہ واقعات کا جائزہ لینے کے لئے کانگریس میں سماعتوں کا اہتمام کرتے۔ اور اس کے بعد ٹرمپ یقینا وہی کچھ کرتا جو یورپ میں ہونے والے ہر دہشت گردانہ واقعے کے بعد موضوع کو سیاسی بنانے کے لئے انجام پایا جاتا ہے اور مسلسل ٹوئیٹ کرتا کہ "میں نہ کہتا تھا کہ ایسا ہوگا"، اس وقت بہت جلد ایک تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کی درخواستیں سامنے آتیں تا کہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کون قوانین وضع کئے جائیں کہ یہ واقعات دہرائے نہ جائیں۔ "تمام آپشن حملہ آور شخص کے متعلقہ ملک کے خلاف کھلے ہیں اور ہم ان آپشنز پر غور کررہے ہیں"۔
فریڈمین نے امریکی حکام کے ممکنہ رد عمل کا جائزہ ایسے حال میں لیا ہے کہ اب اس شخص کی شناخت ایک امریکی ـ عیسائی شخص کے طور پر ہوچکا ہے اور واضح ہوچکا ہے کہ اس شخص کا کسی بھی دوسرے ملک یا دوسرے مذہب سے تعلق نہیں ہے۔
فریڈمین لکھتا ہے:
اب جبکہ قاتل ایک پریشان حال امریکی شہری ہے جو سراپا لوہے میں غرق اور مختلف ہتھیاروں سے لیس ہے اور اس نے ہتھیار قانونی جواز کے تحت خرید لئے ہیں
اب جبکہ قاتل ایک پریشان حال امریکی شہری ہے جو سراپا لوہے میں غرق اور مختلف ہتھیاروں سے لیس ہے اور اس نے ہتھیار قانونی جواز کے تحت اور ہتھیار رکھنے کے بارے میں ہمارے اپنے ڈھیلے قوانین ہی کی بنیاد پر بڑی آسانی سے حاصل کئے ہیں، تو پھر ہوگا کیا؟
جہاں تک ہم جانتے ہیں جو واقعہ رونما ہوگا یہ ہے کہ صدر اور ریپبلکن پارٹی کی پوری کوشش ہوگی کہ کسی بھی قانون کو ہاتھ نہ لگایا جائے، کوئی بھی نئی بات نہ ہو، اور پھر زور دیں گے کہ اس واقعے کو سیاسی مسئلہ نہ بنایا جائے اور پھر آخر میں بطور خاص اپنے آپ کو ہی تجویز دیں گے کہ اسلحہ رکھنے کی قوانین کی مخالفت پر نظر ثانی کریں!
فریڈمین مشرق وسطی میں داعش کے ہاتھوں مارے جانے والے 15 یا 20 افراد کے مارے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اندرونی قوانین پر تنقید کرتا ہے اور امریکی صدر، وزیر دفاع کے لقب "mad dog" نیز حالیہ طوفانوں میں کھربوں ڈالر کے نقصانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وزیر ماحولیات کا مذاق اڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ امریکہ کے قوانین کے تحت لوگوں کو مختلف قسم کے ہتھیار بیچنے اور خریدنے کی اجازت دی گئی ہیں جس کی وجہ سے ہر روز پورے ملک میں درجنوں افراد مارے جارہے ہیں۔
فریڈ میں نے لاس ویگاس کے قاتل سٹیفن پیڈاک کے مکان سے 42 ہتھیاروں کی برآمدگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے ملک کے ہر شعبے میں بدعنوانی رسوخ کرچکی ہے اور ہتھیاروں کے بیوپاریوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے امریکی انتظامیہ کے ہاں ہتھیاروں کے قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی ارادہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
فریڈمین نے آخر میں لکھا ہے: بدعنوانی کا بھی یہاں اپنا کردار ہے، کیونکہ اس کی جڑ ہتھیار بنانے اور بیچنے والوں کے مالی مفادات اور لالچ میں پیوست ہے اور اس میں ان تمام قانون سازوں کے مفادات کا بھی کردار ہے جنہیں خاموشی ٹیکس دے کر خاموش کرایا گیا ہے۔ انہیں بخوبی معلوم ہے کہ اکثر امریکی یہ نہیں چاہتے کہ لوگوں سے شکار اور ذاتی تحفظ کا حق چھین لیا جائے؛ امریکی عوام اور ہمارا واحد مطالبہ یہ ہے کہ اس انسان کا حق اس سے چھین لمیا جائے جس نے اپنے گھر اور ہوٹل میں اپنے کمرے کے اندر جنگی ہتھیاروں کا ذخیرہ محفوظ کیا ہوا ہے اور انہیں اٹھا کر بےگناہ امریکیوں کا خون بہا رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔
/110
5 اکتوبر 2017 - 14:51
News ID: 858434
امریکی اخبار نویس و تجزیہ نگار تھامس فریڈمین نے اپنی یادداشت بعنوان "اگر لاس ویگاس کا قاتل مسلمان ہوتا"، میں لاس ویگاس کے واقعے پر امریکی جکام اور سیاستدانوں کے فرضی موقف کا جائزہ لیا ہے جو قابل غور ہے۔